اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ناروے کے ایک سفارتکار نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے سابق خصوصی نمائندے کائی ایڈی کے طالبان دہشت گردوں کے ساتھ گذشتہ برسوں میں خفیہ روابط رہے ہیں اور ان کی ملاقاتیں آمنے سامنے متحدہ عرب امارات و دبئی میں ہوئی ہیں پہلی بار ہے کہ اقوام متحدہ کے نمائندے کے طالبان کے ساتھ خفیہ روابط کا انکشاف ہوا ہے اس سے قبل بھی مغربی سفارتکاروں نے اقوام متحدہ کے سابق سربراہ کے طالبان رہنماؤں کے ساتھ خفیہ روابط کا انکشاف کیا تھا لیکن اقوام متحدہ نے اس کی تکذيب کی تھی
ذرائع کے مطابق طالبان رہنماؤں سے ان کی ملاقاتیں دبئی اور دیگر مقامات پر ہوئیں جن کا مقصد افغان مسئلے کے حل کے لئے مذاکرات کے امکانات پر تبادلہ خیال کرنا تھا ۔ مذاکرات میں طالبان رہنما کے نائب ملا برادر شرکت کرتے رہے ہیں ۔
پاکستانی سکیورٹی دستوں نے طالبان رہنماؤں کو گرفتار کرکے دنیا پر واضح کردیا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک آچ بھی طالبان رہنماؤں کی خفیہ مذاکرات کے بہانےپشتیبانی اور حمایت کررہے ہیں۔ اور طالبان رہنما در حقیقت مغربی ممالک کے پروردہ ہیں جنھیں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمرہ کرنے کے لئے امریکہ اور مغربی ممالک نے مسلمانوں کی صفوں میں داخل کررکھا ہے۔
.......
152/